آیت اللہ شہید دستغیب اپنے شاگردوں کے ساتھ قبرستان دارالسلام کی زیارت کو گئے۔
ایک رات آیت اللہ شہید دستغیب اپنے شاگردوں کے ساتھ قبرستان "دارالسلام" کی زیارت کو گئے۔ زیارت کے بعد سب لوگ واپس آگئے، لیکن آیت اللہ دستغیب تھوڑی دیر بعد تنہا واپس چلے گئے۔ کچھ وقت کے بعد واپس آئے تو ان کے چہرے پر شدید اثرات نمایاں تھے، آنکھیں سرخ تھیں، اور آنسو بہہ رہے تھے۔
شاگردوں نے پوچھا:
"آقا! کیا ہوا؟ آپ دوبارہ کیوں گئے تھے؟"
انہوں نے فرمایا:
جب ہم قبرستان سے واپس آئے تو میرے دل میں ایک عجیب خلش محسوس ہوئی، دل نے کہا کہ ابھی کوئی چیز باقی ہے، اس لیے واپس گیا۔ وہاں پہنچا تو دیکھا ایک ضعیف خاتون (بوڑھی عورت) قبر پر بیٹھی ہے۔ میں نے پوچھا: اماں! اس وقت یہاں کیوں بیٹھی ہو؟
بوڑھی عورت بولی:
میرے بیٹے کو دفنائے ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں۔ میں روز اس کی قبر پر آتی ہوں، لیکن آج میرے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل نہیں تھا۔ گھر کے سارے چراغ خالی تھے۔ میں بیٹے کی قبر پر اندھیرے میں نہیں بیٹھ سکتی تھی، اس لیے رو رہی تھی۔
میں نے کہا:
چراغ تو میں لا دیتا ہوں، لیکن تم ہر روز آتی ہو، کیوں؟
بوڑھی ماں کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کہا:
میرا بیٹا دنیا میں بہت نیک تھا، مگر نماز نہیں پڑھتا تھا۔ مرنے کے بعد مجھے خواب میں آیا، کہنے لگا: ماں! جب تم آتی ہو تو مجھے قبر میں سکون ملتا ہے، روشنی ہوتی ہے، جب تم نہیں آتیں، میں تاریکی میں ہوتا ہوں۔ ماں! خدا کے لیے، آتی رہا کرو۔
یہ سن کر میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور سمجھ گیا کہ ماں کی محبت مرنے کے بعد بھی اولاد کے لیے نور بن جاتی ہے۔ اور نماز نہ پڑھنے والے کو ماں کی حاضری بھی قبر میں کچھ لمحوں کا سکون دے سکتی ہے، تو سوچو جو خود نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے قبر کیسی ہوگی۔
حوالہ: کتاب: گناہانِ کبیرہ، شہید آیت اللہ دستغیب شیرازی، جلد اول، صفحہ ۵۹۸
