All posts

تلاوتِ قرآنِ مجید کی فضیلت

By Taleemat-E-Ahlibayat-Academy · September 20, 2026

تلاوتِ قرآنِ مجید کی فضیلت

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام اور انسانیت کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ اس کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے تعلق قائم کرنے، دل کو نورِ ایمان سے منور کرنے اور انسان کو ہدایت کی راہ پر گامزن کرنے کا ذریعہ ہے۔ قرآن کی تلاوت کے بارے میں قرآن مجید اور اہلِ بیتؑ کی روایات میں بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔

قرآن خود تلاوت کی دعوت دیتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ
’’پس قرآن میں سے جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو، پڑھو۔‘‘(سورۃ المزمل، 73:20)

یہ آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مؤمن کا قرآن کے ساتھ مسلسل تعلق ہونا چاہیے۔

قرآن کی ایک ایک آیت پر اجر

امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:

مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي صَلَاتِهِ قَائِمًا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ مِائَةُ حَسَنَةٍ…

یعنی جو شخص نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھتا ہے، اس کے لیے قرآن کے ہر حرف کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے۔(حوالہ: شیخ صدوق، ثواب الأعمال، باب ثواب قراءة القرآن۔

ایک اور معروف روایت میں امام صادقؑ فرماتے ہیں:

لِكُلِّ شَيْءٍ رَبِيعٌ وَرَبِيعُ الْقُرْآنِ شَهْرُ رَمَضَانَ

’’ہر چیز کے لیے ایک بہار ہے اور قرآن کی بہار ماہِ رمضان ہے۔‘‘حوالہ: الکلینی، الکافی، ج 4، کتاب الصوم۔

تلاوتِ قرآن دلوں کو زندہ کرتی ہے

قرآن مجید انسان کے دل اور روح کی تربیت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

’’آگاہ رہو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘(سورۃ الرعد، 13:28)

قرآن کی تلاوت بھی اللہ کے ذکر کی ایک عظیم صورت ہے۔ مسلسل تلاوت انسان کو غفلت سے نکال کر اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

قرآن کی تلاوت گھر کے ماحول کو نورانی بناتی ہے

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے منقول ہے:

نَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ

’’اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت سے منور کرو۔‘‘

قرآن سے تعلق رکھنے والا گھر صرف ایک رہائشی جگہ نہیں رہتا بلکہ ذکر، تعلیم اور روحانی تربیت کا مرکز بن جاتا ہے۔

تلاوت کے ساتھ تدبر بھی ضروری ہے

قرآن کی تلاوت عظیم عبادت ہے، لیکن قرآن کا مقصد صرف الفاظ پڑھنا نہیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنا اور زندگی میں نافذ کرنا بھی ہے۔ قرآن خود سوال کرتا ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ

’’کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘(سورۃ محمد، 47:24)

لہٰذا بہترین تعلقِ قرآن یہ ہے کہ انسان تلاوت کرے، ترجمہ سمجھے، تدبر کرے اور عمل کرے۔

قرآن قیامت میں شفاعت کرے گا

اہلِ بیتؑ کی روایات میں قرآن کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے لیے آخرت کے عظیم اجر کا ذکر ملتا ہے۔ رسولِ اکرم (ص) سے منقول ہے:

تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ

’’قرآن سیکھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے اصحاب کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔‘‘حوالہ: الکلینی، الکافی، ج 2، کتاب فضل القرآن۔

یہاں ’’اصحابِ قرآن‘‘ سے مراد صرف وہ لوگ نہیں جو قرآن پڑھتے ہیں، بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو قرآن سے وابستہ رہتے، اسے سمجھتے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن سے ہمارا تعلق کیسا ہونا چاہیے؟

قرآن کے ساتھ ایک مؤمن کا تعلق چند مراحل پر مشتمل ہونا چاہیے:

تلاوت → سماعت → ترجمہ و فہم → تدبر → عمل → کردار سازی

روزانہ تھوڑا سا قرآن پڑھنا، اس کے معنی سمجھنا، ایک آیت پر غور کرنا اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرنا انسان کی شخصیت میں حقیقی تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔

تلاوتِ قرآن مجید ایسی عبادت ہے جو انسان کی زبان کو ذکر، دل کو نور، عقل کو ہدایت اور زندگی کو سمت عطا کرتی ہے۔ قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام سے جوڑتی اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ قرآن کو صرف رمضان یا کسی خاص موقع تک محدود نہ رکھیں بلکہ ہر روز قرآن کے لیے وقت نکالیں۔ قرآن پڑھیں، سمجھیں، اس میں تدبر کریں اور اپنی زندگی کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

6 views